ہمارا قانون ، انتظامیہ اور ہم لوگ | نارووال سیکشن پر ریلوے ٹریک سے نٹ بولٹ چوری کرنے والے چور | Our law, administration and we

ہمارا قانون ، انتظامیہ اور ہم لوگ : آج صبح صبح سوشل میڈیا پہ ایک پوسٹ دیکھی پہلے پہل تو دل خوش ہوا کہ جرائم کی شرح کو کم کرنے کے لیے ہمارے ریاستی ادارے خواب غفلت سے بیدار ہوئے ہیں جب ساری کہانی پڑھی تو پھر سنانے سے رہا نہ گیا. جس کے الفاظ کچھ اس طرح سے تھے کہ " نارووال سیکشن پر ریلوے ٹریک سے نٹ بولٹ چوری کرنے والے چور کو پکڑ کر اے ڈبلیو آئی نے پولیس کے حوالے کر دیا "ـ
بظاہر دو لائنوں پر مشتمل چند ایک الفاظ ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے تصویر میں ایک خستہ حال شخص کے تین عکس دکھائے گئے ہیں کہیں اسے گریبان سے پکڑ کر کھینچا گیا ہے ، کہیں کالر سے پکڑ کر زمین پر پٹخا گیا ہے اور کہیں اس کی حاصل کردہ جمع پونجی کو دکھایا گیا ہےـ
ایک طرف وہ مفرور مجرم جن کی کرپشن کے تخمینے کے لیے سپر کمپیوٹر بھی ہاتھ جوڑے اور دوسری طرف 10 منٹ کی تگ و دو کے بعد کھلنے والا ایک بولٹ اور اسکی قیمت بھی کوئی لاکھوں نہیں بمشکل 2 روپے ہو سکتی ہےـ
ایک طرف وہ سزا یافتہ مجرم جو شاہی کرسیوں پر بیٹھے 200 سے زائد دانشوروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر 2 سال سے مفرور ہے تو دوسری طرف 2 روپے کا نٹ بولٹ چوری کرنے پر سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جانے والا چور ـ بلاشبہ یہ چوری نہیں بلکہ اک حادثہ ہے ، اک خاموش طمانچہ ہے ایوان میں بیٹھے حکمرانوں کے منہ پر ، اک سوال ہے انتظامیہ کی کارکردگی پر ، اور میں خراج تحسین پیش کروں گا پولیس کے اس جوان کو جس نے بڑی جراتمندی ، دیدہ دلیری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ملزم کو پکڑا اور سلام ہے اس لمحے کو جب اس نے ملزم کے ساتھ ایک سیلفی لینے کے لیے اسے دھکا دے کر زمین پر پٹخا ہو گا ، سلام ہے اس جوان پر جو اس وقت سیلفی بنا رہا تھا جب ایک شخص ایک خستہ حال مجذوب کو کالر سے پکڑ کر کھینچ رہا ہو گا ـ کیا واقعی ہماری پولیس اتنی زمہ دار ہو چکی ہے ، یہ روزانہ ہوٹلوں سے مفت میں کھانا اور غریب کی ریڑھیوں سے اپنا پیٹ اور جیب گرم کرنے والے کیا جانیں کہ کسی کے گھر میں کتنے دنوں سے چولہا ٹھنڈا پڑا ہے ، شاید کہ اس کے بچوں کی بھوک انہی نٹ بولٹ سے کم ہو جاتی ـ
افف، قربان جاؤں اپنے عظیم ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون دانوں اور رکھوالوں کی دیدہ دلیری پر آج ہم سے تو مغرب کا قانون بدرجہا بہتر کہ ، جہاں کچھ دن پہلے ایک ملزم کو پکڑ کر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے ـ مقدمہ کیا تھا کہ اس نے ایک بیکری سے Bread چوری کیا اور پکڑا گیاـ جج صاحب نے پوچھا آپ نے چوری کیوں کی ویسے ہی مانگ لیتا ؟ کہتا ، مانگا تھا نہیں دیا ـ جج صاحب نے کہا کسی سے پیسے ادھار لے لیتا ؟ کہتا ، مانگے تھے کسی نے نہیں دیئے ـ جج صاحب نے کہا کام کیوں نہیں کرتے ؟ کہتا ، کرتا تھا ماں بیمار تھی ایک دن چھٹی کی انہوں نے کام سے نکال دیا ـ جج صاحب نے کہا گھر والوں سے پیسے لے لیتا ؟ کہتا ، ابو فوت ہو گئے ہیں بھائی کوئی نہیں والدہ بیمار ہے ـ جج صاحب نے کہا چوری کیوں کی ؟ کہتا ، ماں کو بھوک لگی تھی ـ جج صاحب نے ایک ٹھنڈی آہ بھری ، للچائی نظروں سے احاطہ عدالت میں موجود لوگوں کی طرف دیکھا اور فیصلہ سنانا شروع کیا ـ جج صاحب کے الفاظ کچھ اس طرح سے تھے ـ " جیسا کہ آپ جانتے ہیں آج ایک اسٹور سے بریڈ چوری ہوا اور مجرم کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا بلاشبہ یہ ایک جرم ہے اس جرم کے ذمہ دار وہ تمام لوگ ہیں جو اس وقت عدالت میں موجود ہیں . اس جرم کی پاداش میں عدالت عالیہ اس وقت عدالت میں موجود تمام لوگوں پر 10، 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتی ہے اور کوئی بھی شخص اس وقت تک عدالت سے باہر نہیں جا سکتا جب تک کہ وہ 10 ڈالر ادا نہ کرے ، اور وہ اسٹور جس سے بریڈ چوری ہوا اس کے مالک کو 10 ہزار ڈالر جرمانہ ادا کرنا ہو گا اور یہ رقم تین دن کے اندر جمع کروانا ہو گی ورنہ عدالت اس کے خلاف خود کارروائی کرے گی .
جرمانے کی تمام رقم بریڈ چوری کرنے والے ملزم کو دی جائے تاکہ وہ اپنی ماں کا علاج بھی کروائے اور آئندہ سے ایسی نوبت ہی نہ آئے "ـ محترم ، معاشروں کی تشکیل ایسے ہوتی ہے . اس ملک کے نظام انصاف پہ کیا کہنا جہاں طاقتور کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور کمزور کو جھنجھوڑ دیا جاتا ہے ـ ایک مہذب ریاست کا ایک ادنیٰ سا شہری ہونے پر مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں اپنے ریاستی اداروں کو جہاں وہ خرگوش کی نیند سوئے ہوں ضرور جگاؤں اور یہ میرا آئینی اخلاقی اور معاشرتی حق بھی ہے اور فرض بھی ـ اور حکام بالا سے اپیل ہے کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں ایک وہ ملک ہے جاپان کہ جہاں ہزار کا نوٹ روڈ پہ پھینک دو تو کوئی اٹھاتا نہیں ہے اور ایک ہمارا ملک پاکستان کہ جہاں 10 روپے کے عوض صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے ـ

Law, Administration and Us: I saw a post on social media this morning. First initiative, I felt happy that our state institutions have woken up with negligence to reduce the rate of crime. When I read the whole story, I couldn't stop telling it.
Whose words were something like that, AWI handed over to the police after the thief who stole a nut bolt from a railway track on Narowal section. Apparently there are a few words that consist of two lines but reality is the opposite. The picture shows three reflections of a crippled man somewhere pulled by his collar, somewhere caught by his collar and somewhere shown the deposit he received.

Believe me, as soon as I saw the picture, I remembered the oppressed Salahuddin, who was killed by the ATM machine, a while ago, the soft-hearted youngsters of the police killed him and put him to sleep forever .
On the one hand, those fugitive criminals whose super computer also joined hands to estimate corruption, and on the other hand, a bolt that opens after 10 minutes of tug and its price is not millions, it can be almost 2 rupees.
On the one hand, the convicted criminal who has been running away for 2 years after throwing dust in the eyes of more than 200 intellectuals sitting on the royal chairs. On the other hand, the thief who was pushed behind the bars for stealing a 2 rupee nut bolt .

Undoubtedly, this is not theft but an accident. A silent slap on the face of the rulers sitting in the house. There is a question on the performance of the administration. And I'll pay tribute to the young police officer who caught the accused with great bravery, visionary and indecency and salute the moment he pushed him to take a selfie with the accused There will be a strike on the earth, salute to the young man who was taking a selfie while a man was pulling a crusade by the collar.
Has our police really become so responsible? These people who heat their stomach and pockets from the poor people's chariot, what should they know that for how many days the stove has been cold in someone's house, Perhaps the hunger of his children would have been reduced by the same nut bolt.
May I sacrifice myself for the courage of the lawmakers and guardians of my great country Islamic Republic of Pakistan.
Today, the law of the West is better than us. Where a few days ago a accused is caught and presented in court. The case was charged that he stole bread from a bakery and was arrested.
The judge asked, why did you steal, should you have asked for the same? I said, I asked but I didn't give.
The judge said, should I borrow money from someone? I said, I asked for it, but no one gave it. Judge said, why don't you work? Used to say, mom was sick took a day off they fired.
The judge said, should you take money from your family?
He says, father has passed away. No brother, mother is sick. The judge said, why did you steal?
I would have said, mother was hungry. The judge looked at the people in the court with a cold sigh, and began to announce the verdict. Judge's words were something like this, "As you know, bread was stolen from a store today and the culprit was caught red-handed. Indeed it is a crime. All the people responsible for this crime are present in court at the moment."
The Supreme Court fined $10, $10 on all the people in the court right now for this crime and no one can go out of court until they pay $10, and the store from which The owner of the stolen bread will have to pay a fine of $10 thousand and the money will be deposited within three days, otherwise the court will take action against it itself.
All the money of the fine should be given to the accused who stole bread so that he can also get his mother treated and not to have such a return in the future."

No comments

If You Have Any Doubt Please Comment.

Powered by Blogger.