بڑا دشمن بنا پھرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبوتر سے جو ڈرتا ہے


شکرگڑھ: شاہین تو دور کی بات پاکستان سے پرواز کرنے والےایک کبوتر سے ہی بھارتی سکیورٹی اداروں کے حکام چکرا کر رہ گئے۔گزشتہ روزپٹھان کوٹ میں پکڑے گئےپاکستانی کبوتر کے بارے میں بھارتی پولیس اور “را” کےافسروں کوڈر تھاکہ اس کےجسم میں کوئی خفیہ آلہ ہو سکتاہے۔کبھی اس کے پر کترے گئے کبھی ہسپتال لے جا کرایکسرے لئے گئے لیکن تمام ترتفتیش اور تحقیق کے باوجوداسے جاسوس ثابت نہیں کیا جا سکا تا ہم اس کے باوجودپولیس امن کی علامت اس پرندے کو آزاد کرنے کے لئے تیار نہیں، کبوتر بازعام ٖٖطور پر اپنے پرندے کی شناخت کے لئےاس کے پروں پررنگ،چھلےیاکوئی نشان لگا دیتے ہیں۔اس کبوتر کے مالک نے پروں کے نیچےرنگ سےشکرگڑھ نارووال اور فون نمبر لکھ دیا اسی بنا پر بھارتیوں نے اسے قیدکرلیا۔اب ایک مضحکہ خیزدعویٰ کیا جا رہاہےکہ ایک پر کے نیچےاردوکے الفاظ تحریر ہیں جب تک ان کاسراغ نہیں لگایا جاتا اسے نہیں چھوڑاجائےگا۔جالندھرمیں تعینات بی ایس ایف ڈی  آئی جی آرایس کٹاریہ کےمطابق مشتبہ کبوترکا بی ایس ایف کے کمانڈرنےبھی معائنہ کیا ہے۔کبوتر مقامی پولیس چوکی کے انچارج سریندرکمارکی تحویل میں دیدیاگیا اور کاغذات میں اسےمتشبہ جاسوس لکھا گیا ہے اور اس پر پہرہ بھی بٹھادیاگیا ہے۔پولیس کا خیال ہےکہ یہ کبوتر ایک”جاسوس طیارے” کے طور پرکام کر سکتا  ہے۔سرحد کےقریب بہت سی فوجی تنصیبات ہیں، یہ کبوتر آسانی سے ان کی تصاویرکھینچ سکتا ہے-کبوتر کی کہانی پر پوری دنیا میں بھارت کا مذاق اڑایا جا رہا ہےUntitled

Leave a Reply